Motivational short stories are posted in this blog.
Get link
Facebook
X
Pinterest
Email
Other Apps
"There are two types of people who will tell you that you cannot make a difference in this world: those who are afraid to try and those who are afraid you will succeed."
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چڑیا سارا دن دانے کی تلاش میں اڑتی پھرتی رہی مگر اس کو کہیں بھی دانہ نہ ملا۔ بھوک سے نڈھال چڑیا نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور تلاش جاری رکھی۔ کہیں پر شکاری نے دانہ ڈال کر جال بچھا رکھا تھا کہ کوئی بیچاری بھوکی چڑیا دانوں کی لالچ میں جال میں پھنس جائے۔ اس چڑیا نے جال میں پھنسنے سے بھوکا رہنا مناسب سمجھا۔ جیسے جیسے شام ہو رہی تھی اس چڑیا کے ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ آخر ایک جگہ پر اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی لڑکی مرغیوں کو دانہ ڈال رہی ہے۔ اس چڑیا نے سوچا کہ وہ بھی ان مرغیوں کے ساتھ دانہ کھا لے۔ یہی سوچ کر وہ اس جگہ جاکر بیٹھ گئی۔ ابھی وہ دانوں کے قریب جانے ہی لگی تھی کہ ایک مرغی نے اس کو غصے سے گھورا جیسے کہہ رہی ہو کہ یہ اس کے دانے ہیں۔ اس مرغی کی غصیلی نگاہوں سے چڑیا سہم سی گئی۔ وہ مرغی سے بچنے کے لیے دوسری طرف ہوئی تو کیا دیکھتی ہے کہ ایک خونخوار قسم کا کتا رال ٹپکائے اس کی جانب چلا آرہا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی فرار کا راستہ اپناتی وہ کتا اس پر جھپٹ پڑا۔ بہت مشکل سے جان بچا کر وہ چڑیا ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی میں جا بیٹھی اور جان بچ جانے پر شکر ادا کرنے لگی۔ ...
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا۔ اس بادشاہ کا ایک خاص وزیر تھا، جو بہت ہی نیک اور رحمدل تھا۔ اس نے کبھی بھی اپنے بادشاہ کو کوئی غلط مشورہ نہ دیا۔ ہمیشہ عوام اور قوم کی بھلائی کی ہی تجویز دی۔ اسی وجہ سے وہ وزیر بادشاہ کو بہت عزیز تھا۔ ایک بار ایسا ہوا کہ شکار کھیلتے ہوئے اس وزیر کی نظر ایک ہرن پر پڑی، جو بھاگ کر اس کے سامنے سے گزرا تھا۔ اس وزیر نے ہرن کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے گھوڑا دوڑا دیا۔ کچھ دور بھاگنے کے بعد پھرتی سے اس وزیر نے وہ ہرن پکڑ لیا۔ پکڑنے پر معلوم ہوا کہ وہ ہرن ابھی بچہ ہے۔ خیر وہ وزیر اس ہرن کے بچے کو اٹھا کر گھوڑے پر سوار ہو کر واپس چل پڑا۔ کافی دور چلنے کے بعد اس وزیر کو محسوس ہوا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ جب اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک ہرنی اس کے پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس ہرنی کی آنکھوں میں آنسو ہوں۔ وہ اس ہرن کی ماں تھی۔ گویا وہ کہہ رہی ہو کہ اس سے اس کی اولاد کو مت چھینو۔ اس ہرن کی آنکھوں میں بھی درد اور تکلیف نمایاں تھی۔ اس ہرنی کی آنکھوں میں التجا صاف نظر آرہی تھی۔ اس رحمدل وزیر کو ترس آگیا۔ اس نے گھوڑے سے ات...
بادشاہ نے کانچ کے ھیرے اور اصلی ھیرے ایک تھیلی میں ڈال کر اعلان کیا "ھے کوئی جوھری جو کانچ اور اصلی ھیرے الگ کر سکے " شرط یہ تھی کہ کامیاب جوھری کو منہ مانگا انعام اور ناکام کا سر قلم کردیا جائے گا ۔ درجن بھر جوھری سر قلم کروا بیٹھے ۔ کیوں کہ کانچ کے نقلی ھیروں کو اس مہارت سے تراشا گیا تھا کہ اصلی کا گمان ھوتا تھا ۔ ڈھنڈھورا سن کر ایک اندھا شاھی محل میں حاضر ھوا۔ فرشی سلام کے بعد بولا کہ میں وہ ھیرے اور کانچ الگ الگ کر سکتا ہوں ۔ بادشاہ نے تمسخر اڑایا اور ناکامی کی صورت میں سر قلم کرنےکی شرط بتائی۔ اندھا ھر شرط ماننے کو تیار ھوا ۔ ھیروں کی تھیلی اٹھائی اور محل سے نکل گیا ۔ ایک گھنٹے بعد حاضر ھوا اس کے ایک ھاتھ میں اصلی اور دوسرے ھاتھ میں کانچ کے نقلی ھیرے تھے ۔ شاھی جوھریوں نے تصدیق کی کہ اندھا جیت گیا ھے ۔ بادشاہ بہت حیران ھوا اس کی حیرت کی انتہا نہ رھی کہ ایک جو کام آنکھوں والے نہ کر سکے وہ کام ایک نابینا کیسے کر گیا ۔ بادشاہ نے اندھے سے دریافت کیا کہ اس نے اصلی اور نقلی کی پہچان کیسے کی؟ اندھا بولا یہ تو بہت آسان ھے "میں نے ھیروں کی تھیلی کڑی دھوپ میں ...
Comments
Post a Comment