Posts

Showing posts with the label kids stories

سیر کو سوا سیر

Image
گزرے وقتوں کی بات ہے کہ کسی گاؤں میں ایک کنجوس آدمی رہتا تھا۔ ایک بار وہ کسی کام سے دوسرے گاؤں جا رہا تھا۔ راستے میں اس کا گزر ایک جنگل سے ہوا۔ جب وہ جنگل سے گزر رہا تھا تو اس نے ایک کھجور کا درخت دیکھا۔ اس نے سوچا کہ اگر وہ یہاں سے مفت کھجور لے جا کر بازار میں بیچے تو اس کو کتنا منافع ہوگا۔ بس پھر کیا تھا اس کنجوس نے درخت پر چڑھنا شروع کر دیا۔ لالچ کی وجہ سے اس نے یہ غور ہی نہیں کیا کہ اس درخت پر تو شہد کی مکھیوں کا چھتا ہے۔ جب وہ اوپر چڑھ گیا اور اس چھتے تک جا پہنچا تو اس کو معلوم ہوا کہ یہاں تو شہد کی مکھیوں کا چھتا ہے۔ شہد کی مکھیوں کو بھی خطرہ محسوس ہوا تو انہوں نے اس کنجوس شخص پر حملہ کردیا۔ وہاں سے جان چھڑانا مشکل ہو گیا تو اس کنجوس آدمی کو اللہ کی یاد آئی اور اس نے اللہ سے مدد طلب کی۔ اس کنجوس نے یہ دعا کی کہ اللہ تعالی اس کو اس مصیبت سے نجات دلائیں تو وہ سو غریبوں کو کھانا کھلائے گا۔ پھر آہستہ آہستہ اس نے درخت سے نیچے اترنے کی کوشش شروع کی۔ جب وہ ذرا سا نیچے ہوا تو اس نے کہا کہ وہ پچھتر لوگوں کو کھانا کھلائے گا۔ جب وہ مزید نیچے ہوا تو اس نے کہا کہ وہ پچیس لوگوں کو کھانا ک...

سستی

Image
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چوہا تھا۔ وہ ایک گھر میں بل میں رہتا تھا۔ اس گھر کے لوگ جو اشیاء استعمال کرکے پھینکتے تھے ان چیزوں کو کھا کر وہ چوہا اپنا گزر بسر کرتا تھا۔ اچانک ہی ان لوگوں کو وہاں سے کسی دوسری جگہ منتقل ہونا پڑا۔ ان لوگوں کے جانے کے بعد وہ گھر خالی ہو گیا۔ کچھ دنوں تک تو ان کی بچی کھچی چیزوں سے چوہے نے اپنا پیٹ بھرا، مگر وہ چیزیں کتنے دن چلتیں۔ آخرکار وہ چیزیں ختم ہوگئیں اور چوہے پر فاقوں کی نوبت آگئی۔ چوہے نے سوچا کہ اب اس جگہ سے کہیں اور چلا جائے تاکہ کھانے کو تو کچھ ملے۔ چوہے نے اپنا ضروری سامان ساتھ لیا اور نئے ٹھکانے کی تلاش میں نکل پڑا۔  اس کا گزر ایک دکان سے ہوا۔ اس دکان میں کھانے پینے کی تمام اشیاء موجود تھیں۔ چوہا چونکہ کافی دنوں سے بھوکا تھا، اس لیے وہ اس دکان میں جا گھسا اور دکان کے مالک سے چھپ کر چیزیں کھانے لگا۔ جب اس نے پیٹ بھر کر کھا لیا تو ایک آٹے کی بوری کے ساتھ ٹیک لگا کر آرام کرنے لگ گیا۔ چوہے نے سوچا کہ یہ جگہ تو بہت اچھی ہے، کھانے کو بھی بہت کچھ ہے اس لیے اس نے وہیں رہنے کا فیصلہ کیا۔ اب چوہا روزانہ پیٹ بھر کر کھاتا اور وہیں پڑا رہتا۔ زیا...

محنت

Image
حامد کے والد ایک مزدور تھے۔ جس دن ان کو مزدوری ملتی تھی اس دن ان کے گھر کا چولہا جلتا اور اگر کسی دن  مزدوری نہ ملتی تو نوبت فاقوں تک آ جاتی تھی۔ ایک بار ایسا ہوا کہ حامد سکول سے واپس آیا تو اسے شدید بھوک لگی ہوئی تھی۔ اس نے اپنی والدہ سے کہا کہ وہ سے کھانا دیں تو والدہ نے جواب دیا کہ گھر میں کھانے کو کچھ بھی نہیں ہے اور کچھ خریدنے کیلئے پیسے بھی نہیں ہیں۔ حامد کو یہ سن کر بہت دکھ ہوا۔ اس نے سوچا کہ یہ تو بہت غلط بات ہے۔ اس کو محنت کر کے اپنا اور گھر والوں کا پیٹ پالنا چاہیے۔ یہی سوچ کر اس نے بازار کا رخ کیا اور وہاں سے ادھار برف لے کر ایک بالٹی میں ڈالی اور گلاس لے کر سینما کے سامنے پہنچ گیا۔ گرمی کی وجہ سے لوگوں کو پیاس لگی ہوئی تھی۔ اس نے وہاں پر دس روپے فی گلاس بیچا۔ واپسی پر برف کے پیسے ادا کیے اور باقی پیسوں سے کھانے کا سامان لے کر گھر آ گیا۔  اب حامد کا یہی معمول تھا۔ وہ بازار سے برف لیتا شربت بنا کر وہ برف اس میں ڈال کر بیچا کرتا تھا۔ پڑھائی کے ساتھ ساتھ وہ محنت بھی کرتا تھا۔ اسی طرح اس نے بی اے کر لیا اور اس کے بعد اسے ایک اچھی کمپنی میں نوکری مل گئی۔ ...

حسد

Image
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ اڑنے والے کیڑوں نے آپس میں مقابلہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ دراصل ہوا کچھ یوں کہ بھونرا(لیڈی برڈ), مکھی، شہد کی مکھی، تنبوڑی، اور ٹڈی دل (ڈریگن فلائی) باتیں کر رہے تھے۔ سب کا یہی خیال تھا کہ وہی سب سے زیادہ تیز اڑتا ہے۔ باتوں باتوں میں بحث چھڑ گئی۔ آخر فیصلہ یہ ہوا کہ اگلے دن سب اسی جگہ جمع ہوں گے اور کٹی چٹان تک جو سب سے پہلے پہنچا، وہی سب سے تیز اڑتا ہے۔ سب نے حامی بھر لی۔  اگلے دن مقررہ وقت پر سب وہاں جمع ہوگئے۔ چیونٹی کو منصف کے فرائض ادا کرنے کے لیے بلایا۔ جب سب  لائن میں کھڑے ہوکر چیونٹی کے اشارے کا انتظار کر رہے تھے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک گھونگا (سنیل) بھی ان کے ساتھ کھڑا ہے۔ وہ سب اس گھونگے کا مذاق اڑانے لگ گئے کہ یہ ہم سے مقابلہ کرنے آیا ہے۔ تیزی کا مقابلہ ہورہا ہے، کوئی سست رفتاری کا مقابلہ نہیں ہے۔ سب کے رویوں اور باتوں سے گھمنڈ اور غرور صاف ظاہر تھا۔ خیر چیونٹی نے اشارہ کیا اور سب کٹی چٹان کی جانب تیز رفتاری سے اڑ پڑے۔ سب کیڑے ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش میں تھے۔ دوسری طرف گھونگا آہستہ آہستہ اپنی منزل کی جانب رواں دواں تھا۔ سست ...

طاقت

Image
ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ ایک چڑیا سارا دن دانے کی تلاش میں اڑتی پھرتی رہی مگر اس کو کہیں بھی دانہ نہ ملا۔ بھوک سے نڈھال چڑیا نے پھر بھی ہمت نہ ہاری اور تلاش جاری رکھی۔ کہیں پر شکاری نے دانہ ڈال کر جال بچھا رکھا تھا کہ کوئی بیچاری بھوکی چڑیا دانوں کی لالچ میں جال میں پھنس جائے۔ اس چڑیا نے جال میں پھنسنے سے بھوکا رہنا مناسب سمجھا۔ جیسے جیسے شام ہو رہی تھی اس چڑیا کے ہمت جواب دیتی جا رہی تھی۔ آخر ایک جگہ پر اس نے دیکھا کہ ایک چھوٹی سی لڑکی مرغیوں کو دانہ ڈال رہی ہے۔ اس چڑیا نے سوچا کہ وہ بھی ان مرغیوں کے ساتھ دانہ کھا لے۔ یہی سوچ کر وہ اس جگہ جاکر بیٹھ گئی۔ ابھی وہ دانوں کے قریب جانے ہی لگی تھی کہ ایک مرغی نے اس کو غصے سے گھورا جیسے کہہ رہی ہو کہ یہ اس کے دانے ہیں۔ اس مرغی کی غصیلی نگاہوں سے چڑیا سہم سی گئی۔ وہ مرغی سے بچنے کے لیے دوسری طرف ہوئی تو کیا دیکھتی ہے کہ ایک خونخوار قسم کا کتا رال ٹپکائے اس کی جانب چلا آرہا ہے۔ اس سے پہلے کہ وہ کوئی فرار کا راستہ اپناتی وہ کتا اس پر جھپٹ پڑا۔ بہت مشکل سے جان بچا کر وہ چڑیا ایک ٹوٹی ہوئی کھڑکی میں جا بیٹھی اور جان بچ جانے پر شکر ادا کرنے لگی۔ ...

رحمدل

Image
پرانے وقتوں کی بات ہے کہ ایک بادشاہ تھا۔ اس بادشاہ کا ایک خاص وزیر تھا، جو بہت ہی نیک اور رحمدل تھا۔ اس نے کبھی بھی اپنے بادشاہ کو کوئی غلط مشورہ نہ دیا۔ ہمیشہ عوام اور قوم کی بھلائی کی ہی تجویز دی۔ اسی وجہ سے وہ وزیر بادشاہ کو بہت عزیز تھا۔  ایک بار ایسا ہوا کہ شکار کھیلتے ہوئے اس وزیر کی نظر ایک ہرن پر پڑی، جو بھاگ کر اس کے سامنے سے گزرا تھا۔ اس وزیر نے ہرن کو پکڑنے کے لیے اس کے پیچھے گھوڑا دوڑا دیا۔ کچھ دور بھاگنے کے بعد پھرتی سے اس وزیر نے وہ ہرن پکڑ لیا۔ پکڑنے پر معلوم ہوا کہ وہ ہرن ابھی بچہ ہے۔ خیر وہ وزیر اس ہرن کے بچے کو اٹھا کر گھوڑے پر سوار ہو کر واپس چل پڑا۔ کافی دور چلنے کے بعد اس وزیر کو محسوس ہوا کہ کوئی اس کا پیچھا کر رہا ہے۔ جب اس نے مڑ کر دیکھا تو ایک ہرنی اس کے پیچھے پیچھے چلی آ رہی تھی۔ یوں معلوم ہوتا تھا کہ اس ہرنی کی آنکھوں میں آنسو ہوں۔ وہ اس ہرن کی ماں تھی۔ گویا وہ کہہ رہی ہو کہ اس سے اس کی اولاد کو مت چھینو۔ اس ہرن کی آنکھوں میں بھی درد اور تکلیف نمایاں تھی۔ اس ہرنی کی آنکھوں میں التجا صاف نظر آرہی تھی۔ اس رحمدل وزیر کو ترس آگیا۔ اس نے گھوڑے سے ات...

سزا

Image
ہادی بہت ہی شرارتی بچہ تھا۔ سارے گاؤں والے اس کی شرارتوں سے پریشان تھے۔ اس کو دوسروں کو تنگ اور پریشان کرکے خوشی ہوتی تھی۔ اس کی امی اس کو بہت سمجھاتی تھیں۔ مگر اس پر کسی بات کا کوئی اثر نہ ہوتا تھا۔ انسان تو انسان وہ جانوروں کو بھی تنگ کرتا تھا۔ بلاوجہ جانوروں کو پتھر مارتا تھا، ان کی دم کھینچتا تھا۔ غرض یہ کہ ہر طرح سے اس نے سب کو تنگ کیا ہوا تھا۔  ایک دن وہ حسب معمول باہر کھیلنے گیا تو اس نے ایک بلی دیکھی۔ جو دیوار پر بیٹھی ہوئی تھی۔ وہ اس بلی کو تنگ کرنے کی غرض سے اینٹیں جمع کرکے اس بلی تک پہنچنا چاہتا تھا۔ جیسے ہی وہ بلی کے قریب پہنچا بلی وہاں سے بھاگ گئی۔ ہادی اس کو تنگ کرنے کے لئے اس کے پیچھے بھاگا۔ وہ بلی بھاگتے بھاگتے بہت دور نکل گئی۔ ہادی بھی اس بلی کے پیچھے تھا۔ اچانک وہ بلی کسی گھر میں گھس گئی۔ اب ہادی اس بلی کے پیچھے نہیں جا سکتا تھا۔ اس لئے وہیں رُک گیا۔ ابھی وہ سوچ ہی رہا تھا کہ اب وہ آگے کیا کرے تو اس کی نظر اسی گھر کی دیوار پر پڑی۔ وہی بلی جو اس گھر میں گھسی تھی۔ وہ اب اس دیوار پر براجمان تھی۔ ہادی اس کو تنگ کرنے کے لئے آگے بڑھا اور جھٹ سے اس کی دم پکڑ لی...

کڑوی روٹی

Image
ایک بار کام کے سلسلے میں مجھے قبائلی علاقے میں جانے کا اتفاق ہوا۔ میرا وہاں ایک ہفتے کا قیام تھا۔ وہاں میں نے دیکھا کہ وہ لوگ جب روٹی بناتے ہیں تو پہلی روٹی کو کڑوی روٹی کہتے ہیں۔ مجھے یہ پتہ لگا تو میں بہت حیران ہوا۔ میں نے وہاں کے ایک مقامی آدمی سے پوچھا کہ یہ کیا ماجرہ ہے تو اس نے بتایا کہ اس کے پیچھے ایک واقعہ ہے۔ میں نے اس سے پوچھا کہ کیا واقعہ ہے۔ اس نے مجھے بتایا کہ بہت پہلے کی بات ہے کہ ایک بار کوئی نیک بزرگ ان قبائلیوں کے پاس تبلیغ کے لیے آئے۔ ان بزرگ نے وہاں کے لوگوں کو نماز، روزہ، زکوۃ وغیرہ کی پابندی کی تلقین کی۔ وہاں قیام کے دوران ان بزرگ نے دیکھا کہ اس علاقے کے کچھ لوگ غریب ہیں اور وہ بہت مشکل سے اپنے کھانے کا انتظام کرتے ہیں۔ غربت کی وجہ سے وہ لوگ پیٹ بھر کر کھانا بھی نہیں کھا سکتے۔ ان بزرگ نے سوچا کہ یہ لوگ بہت سفید پوش اور خوددار ہیں۔ کسی سے مانگنا پسند نہیں کرتے۔ اس لیے ان بزرگ نے ایک ایسی راہ نکالی جس سے ان غریب اور مفلس لوگوں کو پیٹ بھر کر کھانا نصیب ہو اور انکی خوداری پر بھی حرف نہ آئے۔ ان بزرگ نے اس علاقے کے سب لوگوں سے کہا کہ اللہ کی راہ میں زیادہ سے زیادہ خ...

بھلائی

Image
کہتے ہیں کہ کسی بستی میں ایک بچہ رہتا تھا۔ اس بچے کے والد وفات پا چکے تھے۔ وہ ایک جھونپڑی میں اپنی والدہ کے ساتھ رہتا تھا۔ باقی بستی والوں کی طرح وہ بھی قریبی دریا سے مچھلیاں پکڑتا اور ان کو بیچ کر اپنا اور اپنی ماں کا پیٹ پالتا تھا۔ باقی سب لوگ زیادہ مچھلیاں پکڑ لیتے تھے مگر اس بیچارے کے جال میں بہت کم مچھلیاں پھنستی تھیں۔ وہ سارا دن جال بچھا کر بیٹھا رہتا پر کوئی فائدہ نہ ہوتا۔ وہ دکھی ہو کر گھر واپس لوٹ جاتا۔  ایک دن وہ حسب معمول جال بچھا پر مچھلیوں کے پھنسنے کا انتظار کر رہا تھا کہ ایک چھوٹی سی مچھلی اس کے جال میں پھنسی۔ اس نے فوراً جال اٹھا کر اس میں سے مچھلی نکالی اور اپنے پاس رکھی ہوئی ٹوکری میں ڈال دی۔ وہ اداس ہو کر مچھلی کو دیکھنے لگ گیا کہ سارا دن جال لگائے رکھنے کے بعد بھی ایک چھوٹی سی مچھلی ہی اس کو ملی ہے۔ ابھی وہ  اسی سوچ میں تھا کہ اس کو کسی جانور کی درد بھری آواز سنائی دی۔ وہ اس آواز کا تعاقب کرتے ہوئے پاس والی جھاڑیوں کے پیچھے چلا گیا۔ جب وہ وہاں پہنچا تو دیکھا کہ ایک لومڑی کے پاؤں میں رسی بندھی ہوئی تھی۔ اس بچے نے اپنی جیب سے چاقو نکالا اور رسّی ک...

منافع

Image
فرحان ایک تاجر تھا۔ وہ چینی اور نمک کا کاروبار کرتا تھا۔ باقی تاجروں کی طرح وہ بھی ان پر اپنا منافع رکھ کر ان کو فروخت کرتا تھا۔ اس منافع سے وہ اپنے گھر کے اخراجات پورے کرتا تھا۔ جہاں سے وہ چینی لیتا تھا وہاں سے اور بھی بہت سے تاجر چینی لیتے تھے۔ ان تاجروں میں سے ایک تاجر ایسا بھی تھا جو جس قیمت پر چینی خریدتا تھا اسی قیمت پر فروخت کردیتا تھا۔ جب فرحان کو یہ بات پتا لگی تو وہ بہت حیران ہوا۔ اس کو پہلے تو اس بات پر یقین ہی نہیں ہوا مگر جب دو چار لوگوں سے اس بات کی تصدیق ہوئی تو اس کو وہ شخص دماغی طور پر تھوڑا کھسکا ہوا لگا۔  فرحان نے سوچا کہ وہ شخص اگر منافع نہیں رکھتا تو اپنے اخرجات کہاں سے پورے کرتا ہے۔ فرحان نے دل میں طے کیا کہ وہ اس شخص سے ضرور ملے گا اور اس سے پوچھے گا کہ اگر منافع نہیں رکھتا تو اخرجات کیسے پورے کرتا ہے۔ لہذا فرحان نے اس تاجر کے بارے میں معلومات لیں۔  ابھی فرحان اس سے ملنے کا سوچ ہی رہا تھا کہ ایک دن چینی خریدتے ہوئے اس کی ملاقات اس تاجر سے ہوگئی۔ رسمی سلام دعا کے بعد فرحان نے اس سے کہا کہ آئیے چل کر چائے پیتے ہیں۔ لہٰذا وہ دونوں چائے پینے ہوٹل پ...

انصاف

Image
پرانے وقتوں کی بات ہے۔ ایک گاؤں میں ایک غریب بیچاری عورت رہتی تھی۔ اس کا خاوند فوت ہو چکا تھا اور بدقسمتی سے اس کی کوئی اولاد بھی نہ تھی۔ اس کے گزر بسر کا واحد ذریعہ اس کی گائے تھی۔ وہ اس گائے کا آدھا دودھ بیچ دیتی اور  اس سے حاصل کردہ رقم سے گھر کی ضرورت کی اشیاء خرید لیتی اور باقی آدھے دودھ کو اُبال کر اس کی بالائی جمع کرکے گھی بنا لیتی اور دودھ خود استعمال کر لیتی۔ جب گھی جمع ہو جاتا تو وہ اپنے استعمال کے لئے رکھ کر باقی گھی فروخت کر دیتی۔ اس طرح اس کا گزارا چل جاتا۔ وہ عورت بہت ہی کفایت شعار تھی۔ ہر چیز حساب کتاب سے اور سوچ سمجھ کر استعمال کرتی۔ کبھی فضول خرچی نہ کرتی تھی۔  اسی عورت کے گھر کے سامنے والے گھر میں جو عورت رہتی تھی وہ بہت ہی پھوہڑ تھی۔ اس کا شوہر بھی بہت ہی فضول خرچ تھا۔ ان کے پاس سات ہٹی کٹی گائیں تھیں۔ مگر پھر بھی وہ عورت اس غریب عورت سے ادھار گھی لیا کرتی تھی کیونکہ اپنا دودھ تو  وہ ضائع کر دیتی تھی۔ پھوہڑ عورت ہر دوسرے دن اس عورت سے گھی لینے پہنچ جاتی تھی۔ غریب عورت مروت کے مارے اس کوگھی دے دیا کرتی تھی اور یہی سوچتی تھی کہ کیا پتا کبھی اس ک...

دھوکہ

Image
اجمل کی مین بازار میں ایک چھوٹی سی سنار کی دکان تھی۔ اس دکان سے وہ اتنا کما لیتا تھا کہ اس کے تمام ضروری اخراجات پورے ہو جاتے تھے۔ مگر کہتے ہیں نہ کہ انسان ہمیشہ بہتر سے بہترین کی تلاش میں رہتا ہے۔ اسی طرح اجمل بھی اب اپنا کاروبار بڑھانا چاہتا تھا۔ اجمل نے اپنی اس خواہش کا اظہار اپنے دوست کامران سے کیا۔ کامران نے اجمل سے کہا کہ وہ بھی کوئی کاروبار کرنا چاہتا ہے۔ اس کے پاس کاروبار میں لگانے کے لیے رقم بھی ہے۔ اگر اجمل چاہے تو وہ اپنی رقم اس کے ساتھ کاروبار میں لگا سکتا ہے۔ اجمل کو یہ تجویز بہت پسند آئی۔ مگر مسئلہ یہ تھا کہ اس کے پاس ابھی  رقم نہیں تھی۔ اس نے بہت سوچا کہ کس طرح وہ رقم کا انتظام کر سکتا ہے۔ دن رات وہ اسی سوچ میں گم رہتا تھا۔  اجمل کے گھر کے ساتھ والے گھر میں ایک بیوہ خاتون رہتی تھیں۔ ان کا ایک ہی بیٹا تھا۔ وہ اس کو پڑھانا چاہتی تھیں۔ لیکن ان کے پاس اتنے پیسے نہ تھے۔ میٹرک میں اس کی اعلی کارکردگی پر اس کو حکومت کی طرف سے وظیفہ ملتا تھا۔ جس سے وہ اپنے کالج کے اخراجات پورے کرتا تھا۔ اس کی ماں لوگوں کے کپڑے سلائی کر کے گھر کے اخراجات پورے کرتی تھیں۔ کا...

احساس

Image
نعمان اپنے والدین کا اکلوتا بیٹا تھا۔ وہ پڑھائی میں لائق اور ذہین ہونے کے ساتھ ساتھ اپنے والدین کا بے حد ف رمابردار بھی تھا۔ وہ ابھی سکول میں تھا مگر اس کی شخصیت میں تحمل اور سمجھداری موجود تھے۔ وہ اپنے والدین کی خدمت کو عبادت کا درجہ دیتا تھا۔ مگر کچھ دنوں سے نہ جانے اس کو کیا ہوگیا تھا۔ وہ اپنے والدین سے بہت بد تمیزی کرنے لگا تھا اور ان کی بات سن کر بھی ان سنی کر دیتا تھا۔ اس کے والدین اس کے بدلے ہوئے رویے سے حیران ہونے کے ساتھ ساتھ پریشان بھی تھے۔ کئی بار اس کی والدہ نے اس سے بات کرنے کی کوشش کی مگر نعمان نے ان کی کسی بھی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔ اس کی والدہ بہت غمگین ہوگئیں۔ نعمان کے والد نے انہیں حوصلہ دیا اور سمجھایا کہ وہ خود نعمان سے بات کریں گے۔ اگلے دن نعمان کے والد نے اس سے بات کی تو بھی نعمان کے وہی تیور تھے۔ اس نے اپنے والد کی بھی کسی بات کا جواب نہ دیا بلکہ وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے میں چلا گیا۔ نعمان کے والد بھی اس کی اس حرکت سے افسردہ ہو گئے۔ انہیں اپنا بچپن یاد آنے لگا کہ جب وہ بھی اپنے والد کے ساتھ ایسا ہی سلوک کرتے تھے۔ ان کے والد محنت کر کے روزی کماتے...

بدگمانی

Image
ارشد اور اکرم ہم جماعت ہونے کے ساتھ ساتھ بہت اچھے دوست بھی تھے۔ اکرم کے والد ایک معمولی سرکاری ملازم تھے۔ اتنی حیثیت نہ ہونے کے باوجود بھی انہوں نے اکرم کو شہر کے اچھے سکول میں داخل کروایا۔ ارشد کے والد شہر کے بہت بڑے کاروباری آدمی تھے۔ مالی حالات میں فرق ہونے کے باوجود بھی ان دونوں کی دوستی بہت گہری تھی۔ ارشد بہت ہی ہمدرد اور نیک دل لڑکا تھا۔ وہ اکرم کی مالی مدد بھی کر دیتا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ اکرم کے والد سکول کے نوٹس اور باقی اخراجات پورے نہیں کر سکتے۔ ارشد اکثر اکرم کے گھر آتا تھا۔ اس کو اکرم کی والدہ کے ہاتھ کا کھانا بہت پسند تھا۔ مگر ان کی یہ دوستی صرف میٹرک تک ہی چلی۔ اس کے بعد ارشد نے آرٹس میں داخلہ لے لیا جبکہ اکرم نے سائنس کا انتخاب کیا۔  اکرم محنت کرکے پڑھائی مکمل کرنے کے بعد ایک بڑے ادارے میں اچھے عہدے پر نوکری کرنے لگ گیا۔ نوکری ملنے کے بعد اس کے والدین نے اس کی شادی کروا دی۔ عرض یہ کہ اکرم اپنی زندگی میں بہت خوش اور مطمئن تھا۔ اس نے پیسے جمع کرکے اپنے والدین کو حج بھی کروا دیا۔ اس کے والدین بھی اپنے بیٹے کی سعادت مندی اور تابعداری سے بہت خوش تھے اور...

اژدھا

Image
میرے ایک دوست کو گھومنے پھرنے کا بہت شوق ہے۔ وہ ہر جگہ گھوم چکا ہے۔ اس کو مختلف علاقوں میں جا کر وہاں کے لوگوں سے باتیں کرنا اور ان سے اس علاقے کے قصے سننا بہت اچھا لگتا ہے۔ وہ اس سوشل میڈیا کے دور میں بھی فارغ اوقات میں اپنے ارد گرد کے لوگوں سے باتیں کرنا پسند کرتا ہے۔ اس کے اس شوق کی وجہ سے اس کا بہت سے لوگوں سے واسطہ پڑتا ہے۔ کچھ لوگوں کا رویہ اور میزبانی بہت اچھی ہوتی ہے مگر بعض اوقات اسے ذلت کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ جب بھی وہ کسی جگہ کی سیر سے واپس آتا ہے تو مجھ سے ملنے ضرور آتا ہے اور اپنے سفر کی داستان سناتا ہے۔ کبھی کبھی اس کے قصے سن کر میرا بھی دل چاہتا ہے کہ میں بھی اس کے ساتھ سفر کروں مگر میری نوکری مجھے اس بات کی اجازت نہیں دیتی۔  اس بار بھی وہ سفر سے واپس آیا تو مجھ سے ملنے میرے گھر آیا۔ رسمی سلام دعا کے بعد میں نے اس سے سفر کا احوال معلوم کیا۔ وہ کہنے لگا کہ اس سفر میں اس کی ملاقات ایک بزرگ سپیرے سے ہوئی اور اس بزرگ نے اسے اپنے ایک دوست کا قصہ سنایا جو کہ بہت ہی عجیب ہے۔ اسکی یہ بات سن کر مجھے بھی تجسس ہوا کہ آخر کیا واقعہ ہے۔ لہذا میں نے اس سے واقعے کے بار...

دل میں میل

Image
اجمل اور اکمل بھائی تھے۔ والد صاحب کے انتقال کے بعد انہوں نے بہت جلد ہی کاروبار کے داؤ پیچ سیکھ لئے اور کاروبار کو ترقی کی بلندیوں تک لے گئے۔ دونوں میں بہت پیار اور اتفاق تھا۔ ہر کام ایک دوسرے کے مشورے سے کرتے، دفتر کے لوگوں کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔ دفتر کے لوگ بھی ان دونوں سے بہت خوش اور مطمئن تھے۔ ان کو دفتر میں ایک نئے ملازم کی بھرتی کرنی تھی۔ انہوں نے اشتہار دیا اور نوکری کے خواہشمند لوگوں میں سے چھانٹ کر چند لوگوں کو انٹرویو کیلئے بلایا۔ انٹرویو کے بعد ناصر نامی لڑکے کوبھرتی کر لیا۔  ناصر کو دفتر میں آئے چند دن ہی ہوئے تھے۔ وہ ان دونوں بھائیوں کی محبت اور اتفاق دیکھ کر حسد کرتا تھا۔ وہ چاہتا تھا کہ ان میں سے کسی ایک کی خوشامد کرکے ان کے قریب ہو جائے اور دفتر پر حکومت کرے۔ ایسا تب ہی ممکن تھا جب وہ ان دونوں کو الگ کرتا۔ لہذا اس نے منصوبہ بنایا کہ وہ پہلے محنت کرکے ان دونوں کا اعتماد حاصل کرے گا اور پھر ان دونوں کے درمیان غلط فہمیاں پیدا کرے گا اور ان کو الگ کر دے گا۔ وہ دل لگا کر کام کرنے لگ گیا۔ اجمل اوراکمل اس کے کام سے بہت خوش تھے۔ بہت جلد ہی ناصر دونوں کا اعتماد...

صحبت

Image
والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے ان کی ساری امیدیں ارسلان سے ہی وابستہ تھیں۔ ارسلان بھی اپنے والدین کی تمام امیدوں پر پورا کرنے کی بھرپورکوشش کرتا تھا۔ وہ بہت ہی لائق، تابعدار اور شریف لڑکا تھا۔ میٹرک میں اچھے نمبر حاصل کرنے کے بعد اس نے شہر کے سب سے اچھے کالج میں داخلہ لیا۔ کالج کے پہلے ہی دن ارسلان کی دوستی حسن اور احمد سے ہوگئی۔ وہ دونوں ارسلان سے کافی مختلف تھے۔ اساتذہ سے بدتمیزی، رات دیر تک  گھومنا پھرنا اور پڑھائی پر دھیان نہ دینا ان کے لئے معمولی باتیں تھیں۔ ارسلان بھی ان کے ساتھ رہ کر ان کے جیسا ہونے لگ گیا تھا۔ اس کے والدین نے بھی اس کی عادات اور رویے میں تبدیلی محسوس کی۔ وہ آئے دن کالج سے چھٹی کر لیتا۔ کبھی کبھی تو رات کو کافی دیر سے گھر واپس آتا۔ جب اس کے والدین دیر سے آنے کی وجہ پوچھتے تو ارسلان غصہ ہو جاتا۔ پہلے تو ارسلان اپنے والدین سے اونچی آواز میں بات بھی نہیں کرتا تھا اور اب وہ ان سے بدتمیزی کرنے لگا تھا۔ رات کو دیر سے آنا اس کا معمول بن چکا تھا۔ پڑھائی میں بھی اب اس کا دل نہیں لگتا تھا۔ کالج سے بھی اس کی شکایات آنے لگ گئیں۔ اس کے والدین بہت پریشان تھے۔...